پیڈل سے پیڈل تک

ایک دلچسپ خبر سنیئے! وار برٹن کے ایک نوجوان نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنی محبوبہ کو سائیکل پر اغوا کرکے تین سو کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ موصوف لڑکی کو لے کر لاہور، مانانوالہ اور نارووال تک چلا گیا لیکن پولیس نے پکڑ لیا۔میں نے اپنی گڈ بک میں اس نوجوان کا نام’’کمانڈو‘‘ درج کر لیا ہے کیونکہ محبوبہ کو سائیکل پر اغوا کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی جہاز کو چوری کرکے بائی روڈ علاقہ غیر میں لے جانا۔ ابرارالحق ہمارے ملک کے معروف گلوکار ہیں ، پھڈے ڈلوانے والے گانوں میں ان کا کوئی ثانی نہیں بہہ جا سائیکل تے گانا گا کر انہوں نے پہلی دفعہ سائیکل والوں کو یہ احساس دلایا تھاکہ لڑکیوں والے تانگوں کے پیچھے جانے کی بجائے اپنی سائیکلوں میں کشادگی پیدا کریں۔ اب یہ حالت ہے کہ کئی موٹر سائیکلوں والوں نے بھی نمبر پلیٹ کے نیچے لکھوا رکھا ہے ’’ بہہ جا سائیکل تے ‘‘۔۔۔اور تو اور مجھے تو اس وقت شدید حیرت ہوئی جب میں نے یہی جملہ ایک ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا دیکھا ۔میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ اتنے بڑے ٹرک کے ہوتے ہوئے آپ سائیکل پر بیٹھنے کے مشورے کیوں بانٹ رہے ہیں؟مسکرا کر بولے ’’خوچہ ! یہ ٹرک کمپنی کا ہے، امارے پاس تو سائیکل ہی ہے ناں‘‘ مجھے واربرٹن کے نوجوان کے تین سو کلومیٹر سائیکل چلانے کی اتنی حیرت نہیں جتنی اس لڑکی پر‘ جو اتنے لمبے سفر میں سکون سے بیٹھی رہی۔ سائیکل پر تو دس منٹ بیٹھنے کے بعد انسان تخت پوش کی خواہش کرنے لگتا ہے، لیکن یہ عجیب لڑکی تھی جس نے اتنا لمبا ساتھ نبھایا۔ ممکن ہے یہ لڑکی ماضی میں کوئی سائیکلسٹ رہی ہو اور لمبے سفر کی عادی ہو۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ احتیاطاٌ لڑکی کو بھی سائیکل چلانا سکھا دے تاکہ اگر کبھی وہ تھک جائے تو ’’ڈرائیونگ‘‘ کا فر یضہ لڑکی سرانجام دے سکے۔ امید ہے یہ خبر پڑھ کر کئی نوجوانوں کا بھلا ہوا ہوگا اور وہ اپنی محبوباؤں کو اخبار کا یہ ٹکڑا دکھا دکھا کر طعنے دیں گے کہ’’ تم جو ہر وقت گاڑی گاڑی کی رٹ لگائے رکھتی ہو، یہ دیکھو محبت کرنے والے سائیکل پر بھی مطمئن ہو جاتے ہیں‘‘۔ اگرچہ پولیس نے مذکورہ نوجوان اور لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ یہ گرفتاری عارضی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نوجوان نے تین سو کلومیٹر کا سفر سائیکل پر اس لیے برداشت کیا کہ وہ ابھی کنوارہ تھا ۔ شادی ہوئی ہوتی توشایدگوجرانوالہ سے 16 کلومیٹر پہلے دم توڑ جاتا۔ شادی ایک بندھن کا نام ہے اور بندھن میں تین سو کلومیٹر کے سفر کا ذکردور دور تک نہیں ملتا۔ سائیکل ایک شاہی سواری ہے ، نہ پٹرول ، نہ ڈیزل، پیڈل مارے اور اللہ اللہ خیر صلا، سائیکل سواروں کے لئے ٹریفک کا بھی کوئی ضابطہ نہیں‘ انہیں سب قصور معاف ہوتے ہیں، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اشارے پر بے شک ساری ٹریفک رکی ہوئی ہو، سائیکل والے بے دھڑک گزر جاتے ہیں۔ پہلے کسی دور میں غلط اشارے کاٹنے پر سائیکل کے ٹائر کی ہوا نکال دی جاتی تھی، آج کل یہ بھی معاف ہے۔ میرے ایک محلے دار تو اکثر کہتے ہیں کہ گاڑیوں میں بھی پیڈل لگوا لینے چاہئیں تاکہ پٹرول اور سی این جی کی بھی بچت ہو اور انسان تندرست بھی رہے۔ بندہ پوچھے اگر گاڑیوں میں پیڈل لگ گئے اور کسی کی محبوبہ نے گاڑی پر پانچ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا تو؟
                                              
                           تحریر: گلِ نوخیز اختر                          

تیری گلی سے جب کوئی رشتہ نہیں رہا


غزل

تیری گلی سے جب کوئی رشتہ نہیں رہا
منزل نہیں رہی کوئی جادہ نہیں رہا

بیٹھیں کہاں کہ سایہءِ دیوار بھی نہیں
جائیں کہاں کہ پاؤں میں رستہ نہیں رہا

اب محوِ انتظار وہ آنکھیں نہیں رہیں
بامِ نظر پہ کوئی دریچہ نہیں رہا

تُو آسماں سہی تری گردش بجا مگر
موسم تیری وفا کا بھی تازا نہیں رہا

دشتِ جنوں نواز وہی، قیس بھی وہی
محمل نہیں رہی، کہیں ناقہ نہیں رہا

پہلی سی وہ محبتیں کب تھیں اُسے
جیسا ملا تھا وہ کبھی ، ایسا نہیں رہا

عابدؔ یہ کیا فُسوں ہے کہ حدِ نگاہ تک
جگنو نہیں رہا، کوئی تارا نہیں رہا

شاعر: عابدؔ جعفری
انتخاب: اسد محمود

ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں شکستِ اَنا کے بعد

غزل

ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں شکستِ اَنا کے بعد
ہر باوفا بھی چھوڑا ہے اس بے وفا کے بعد

طوفاں میں چھوڑ دے کہ یہ ساحل پہ لے چلے
اب ناخدا خدا بھی ہے اپنا خدا کے بعد

سُنتا نہیں یہاں کوئی یا بولتا نہیں
ہیں چار سو خموشیاں مری اِک صدا کے بعد

جلتے دئیے بجھانا اسی کا ہی کام ہے
محفل میں کوئی آیا نہیں ہے ہوا کے بعد

اِک بار پھر خدا سے ہی مانگیں گے ہم تمہیں
عابدؔ اُٹھیں گے حشر میں جس دِن قضاء کے بعد

شاعر: عابدؔ جعفری 
انتخاب: اسد محمود

جنوب اپنا نہ دسترس میں شمال اپنا

غزل

جنوب اپنا نہ دسترس میں شمال اپنا
بھٹک گیا ہے کہاں نہ جانے غزال اپنا

زمامِ اسپ ِ خیال ہاتھوں سے چھوٹتی ہے
مقامِ کسبِ کمال پر ہے زوال اپنا

رُخِ زلیخا کے آئینے پر اٹک گئی ہے
نگاہِ یوسف کہ ڈھونڈتی ہے جمال اپنا

کسی پرندے کے پَر کا سایہ نہ سر پہ آیا
تو کیا کہیں کہ یہ سال کیسا ہے سال اپنا

یہ موسموں کی جو بات کرتے ہو تم تو گویا
تمہارا آسان ہو گیا ہے محال اپنا

اُلجھ گیاہوں میں اپنے آپے میں آپ ایسا
کہ ہو گیا ہوں جواب اپنا،سوال اپنا

کہاں چلو گے،کہاں پہ آ کے رُکے ہو عابدؔ
یہ کیسی منظق ہے کچھ تو کرتے خیال اپنا

شاعر: عابدؔ جعفری
انتخاب: اسد محمود

بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں

غزل

بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں
ورنہ کس واسطے بیکار میں گم ہو جائیں

کیا کریں عرضِ تمنا کہ تجھے دیکھتے ہی
لفظ پیرایہءِ اظہار میں گم ہو جائیں

یہ نہ ہوتم بھی بھیڑ میں کھو جاؤ کہیں
یہ نہ ہوہم کسی بازار میں گم ہو جائیں

کس طرح تجھ سے کہیں کتنا بھلا لگتا ہے
تجھ کو دیکھیں ترے دیدار میں گم جائیں

ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں

پیچ اتنے بھی نہ دو کرمکِ ریشم کی طرح
دیکھنا سر ہی نہ دستار میں گم ہو جائیں

ایسا آشوبِ زمانہ ہے کہ ڈر لگتاہے
دِل کے مضمون ہی نہ اشعار میں گم ہو جائیں

شہر یاروں کے بُلاوے بہت آتے ہیں فرازؔ
یہ نہ ہو آپ بھی دربار میں گم ہو جائیں

شاعر: احمد فرازؔ

انتخاب :اسد محمود

کسی شخص نے مرے زخم پر کوئی اور زخم لگا دیا

کسی شخص نے مرے زخم پر کوئی اور زخم لگا دیا
ابھی جو چراغ جلا نہ تھا ، وہ چراغ اُس نے بجھا دیا

وہ فریب خوردہ حیات ہو کہ ہماری اپنی ہی ذات ہو
جسے سنگِ راہ سمجھ لیا ، اُسے راستے سے ہٹا دیا

تُو وہ آفتاب تھا، جس کی ضو رہی روشنی سے بھی تیز رُو
یہ ہزار رنگ نقاب میں، ترا چہرہ کس نے چھپا دیا

مری زندگی میں ہے وہ سفر کہ چٹان جیسی ہے رہگزر
میں اُسی کے پاؤں کی خاک ہوں، مجھے نقش جس نے بنا دیا

ہیں جو تیرے ساتھ بندھے ہوئے ، کہیں ٹوٹتے ہیں وہ سلسلے!۔
مجھے رات موت کی نیند سے تری آرزو نے جگا دیا

شاعر :شہزادؔاحمد        انتخاب: اسد محمود

ہمیں توخاک پہ حکمِ سفر دیا اُس نے

ہمیں توخاک پہ حکمِ سفر دیا اُس نے
وہ اور ہوں گے جنہیں کوئی گھر دیا اُس نے

وہی کہ جس نے عطا کی گلاب کو خوشبو
مجھے بھی شوقِ اذیت سے بَھر دیا اُس نے

اُسے نہ ملنے سے خوش فہمیاں تو رہتی ہیں
میں کیا کروں گا جو انکار کر دیا اُس نے

دُعائے اَبر کا مقصد تو اور تھا کوئی
مرے چراغ کو پانی سےبَھر دیا اُس نے

میں ایک شاخِ مسلسل تھا اپنے خوابو ں  کی
ثمر کے بوجھ سے بیکار کر دیا اُس نے

مری نگاہ کوکوئی فریب بھی دیتا 
اگر یہ سچ ہے کہ حسنِ نظر دیا اُس نے

شاعر: عباس تابشؔ                 انتخاب: اسدمحمود