دیدِ جمال حق ہوئی ، حسنِ نگار دیکھ کر
بن گئے بُت پرست ہم ، صورتِ یار دیکھ کر
کب تھا نصیب میں سکوں ، پہلے ہی حال تھا زبوں
بڑھ گئیں اور اُلجھنیں ، گیسوئے یار دیکھ کر
ساقی بھی ہے ، گھٹا بھی ہے ، موسمِ جاں فزا بھی ہے
کافر ہے جو نہ اب پیئے ، ایسی بہار دیکھ کر
رکھے کہاں کہاں قدم ، ساقی میرے حضور نے
سجدے کیے ہے جا بجا ، اُن کا دیار دیکھ کر
انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں