بیٹھے صنم کدے میں ہم ، صوم و صلوٰۃ چھوڑ کر
کافرِ عشق ہو گئے ، رِشتہ بُتوں سے جوڑ کر
درد سے ہوں میں جاں بلب ، یہ بھی نہیں کیا خیال
کردیا خونِ آرزو ، چل دیئے منہ کو موڑ کر
جلوہءِ فتنہ ساز نے ، اُن کی نگاہِ ناز نے
عشق کی کائنات کو ، رکھ دیا جھنجھوڑ کر
آنکھ بھی خشک ہو گئی ، شعلہءِ غم بُجھائے کوئی
یاد کسی کی لے گئی ، دِل کا لہو نچوڑ کر
لاؤں کہاں سے اے فنا ، سجدہ حرم کے واسطے
آج صنم کدے سے میں ، اُٹھا ہوں سر کو پھوڑ کر
انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں