ناصر کاظمی

ناصرکاظمی (1974-1925ء)جدید یت کے اہم شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ناصر کاظمی لطیف محسوسات کے شاعر ہیں اوریہ حسیات ان کے اندر ہی سے جنم لیتی اور باہر آکر دائرہ در دائرہ پھیل جاتی ہیں۔ یہ بہت ہی نازک ہیں انہیں ذرا سی خراش لگتی ہے، تو اچھل پڑتی ہیں اور شاعر کے باطن میں کہرام مچاتی ہیں اور شعری صورت میں منقلب ہونے کے لیے بے تاب ہوتی ہیں،ان حسیات کو ناصرکی صورت میں ایک ایسا شاعر میسر آیا ہے جس کے پاس ایک ایسا قالب ، قلب کی صورت میں موجود ہے جو ان کا مکمل سانچہ ہے اس لیے اپنے اس انتخاب پہ وہ حیران بھی ہیں اور نازاں بھی ۔ بے ساختگی،برجستگی اورکفایت لفظی کے باوجود بھی وہ خیال و موضوع کی تکمیلیت کا جادو جگاتے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ پلک جھپکنے میں ہم نے جیسے کئی درماندہ کہانیوں کو پڑھ ڈالا :
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے
گا رہا تھا کوئی درختوں میں
رات نیند آ گئی درختوں میں
کل جنھیں زندگی تھی راس بہت
آج دیکھا انہیں اُداس بہت
حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:
’’ناصر کاظمی کی غزل کے لسانی برتائو کا ایک خلقی اور امتیازی وصف اس کی برجستگی ہے۔ شعر کہتے ہوئے کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوپاتا کہ وہ اپنی طبیعت پر دبائو ڈال رہے ہیں یا کسی قسم کا جبر کرتے ہیں، بلکہ ان کے اشعار خودرو پودوں کی طرح اُگتے ہیں اور فضا رنگ اور روشنی سے منور ہو جاتی ہے ۔یہ برجستگی اور آمد طبع شاعر کے غیرمعمولی گداز ، رچاؤ اور انہماک کو ظاہر کرتی ہے ۔ ‘‘
ناصر روزمرہ کے عام فہم ، سادہ اور سلیس الفاظ و انداز میں اپنا قصۂ درد بیان کرتے ہیں ۔ مانوس اور بے تکلف زبان استعمال کرتے ہیں ۔ سکہ بند اور مروجہ معنی ہونے کے باوجود نادیدہ امکانات کو روشن کرتے ہیں ۔ علیم صبا نویدی کہتے ہیں کہ:
’’مزاج کی برانگیختگی اور اضطراب کے عالم میں بھی سوچوں کی سنجیدگی اگر دیکھنی ہو، تو وہ ناصر کاظمی کی غزلوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ ‘‘
ناصر کی غزلیں منجھے ہوئے ذہن کی پیداوار ہیں جن میں شعری تہذیب کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ یہ شعر اُنھیں نکھرے ہوئے گلدستے کی طرح حسین صورت میں مرتب دکھائی دیتے ہیں جو کہ شائستگی کا پیکر معلوم ہوتے ہیں۔
غزل بنیادی طور پر علامتی صنف سخن ہے کیونکہ اس میں ابہام و ایہام ، رمزیت و ایمائیت کو بنیادی دخل ہے۔ خیال کا مختصر پیکر ہوتا ہے جس میں کہ پوری کہانی کو بیان کرنا ہوتا ہے اور اس میں بھی ردیف و قافیہ اپنی جگہ پہلے سے گھیرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس لیے حددرجہ اختصار،احتیاط اورکفایت سے کام لینا پڑتا ہے۔ اسی لیے اس میں خیال کی سطح پر دھندلے دھندلے نقوش چھوڑنے پڑتے ہیں اور ان نقوش کی اشاریت ہی سے پورے منظر نامے تک رسائی کرناہوتی ہے ۔ ناصر نے علامتوں کا فنکارانہ استعمال کیا ہے، ناقدین نے ان کے ہاں یاد،رات ، شہر ، گھر، پانی ، ہوا ، سفر ، چاند ، سناٹا ، آواز اور دوسری علامتوں کا ذکر کیا ہے ۔ سناٹاناصر کے ہاں تخلیقی کرب کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ وہ اس تخلیقی کرب میں مبتلا ہوکر ذات کی معنی آفرینی اورتہ در تہ جہاں کا رخ کرتا ہے اور وہاں سے تاثیر کے جوہر نکالنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔
’’اس کے کلام کی تاثیر کا اصل سبب بھی یہی ہے کہ یہ کلام ذات کی تہوں سے ابھرا ہے ، ذہن کے بالا خانے سے نازل نہیں ہوا ۔‘‘
وہی وقت کی قید ہے درمیان
وہی منزلیں وہی فاصلے
ہجرت کے واقعے نے ان کی سائکی کو شدت سے جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔فسادات میں ناصر کے ساتھ بڑا سانحہ یہ ہوا کہ اس کے سب دوست احباب بچھڑ گئے جو اس کی متاع عزیز تھے۔دوستوں سے بچھڑنے کا سب سے زیادہ کرب و غم ناصر اورخلیل الرحمن اعظمی نے محسوس کیا ہے ۔ ان کے بچھڑ جانے کے بعد زندگی ایک لا سمتی ، لا مقصدیت اور بے معنویت کا شکار ہو گئی۔ نقوش رفتگاں جب آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں، تو دل کے جذبات و احساسات میں ارتعاش پیدا ہونے لگتا ہے اور دل کے تار دردکے ساز چھیڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ’’اے دوست ‘‘کا تخاطب ان کے اکثر اشعار میں ملتا ہے اور اس تخاطب و آواز میں اداسی کی دبیز لہریں چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور جیسے ہی وہ آواز دیتے ہیں ’’ اے دوست ‘‘ تو وہ تمام نقشہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے وہ سارا کرب ، دکھ ،درد اورہجر جو اس سے وابستہ ہے قاری پر عیاں یا کہنے دیجیے، مسلط ہوتا ہے :
کہاں ہے تو کہ تیرے انتظار میں اے دوست
اگرچہ دل تیری منزل نہ بن سکا اے دوست
ناصر کاظمی کی غزل نوسٹلجیا کی اچھی مثال کہی جاتی ہے ،اپنے ہم عصروں میں اثر انگیز ، منفرد ، پرسوز اور درد مند دل کی آواز ہے۔ ہجرت کے المیے میںان کو میر کی بازگشت سنائی دی۔انہوں نے ہجرت کو عمرانی معنی پہنا دیے ۔48 ء کے فسادات کے نتیجے میں ان کی غزل میں احتجاج اور غم و غصہ کی اونچی لے پائی جاتی ہے ۔ اجڑتے شہر،جلتے گھر، لٹتی عصمتیں اور دلدوز چیخوں کے منظر نامے سے ان کی شاعری مرتب ہوئی ہے ’’ برگِ نے‘‘کی غزل کا یہ شعر:
شہر در شہر گھر جلائے گئے
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
اُن کے شعری سفر کے بہت سے راز افشا کرتا ہے۔ اس غزل میں اُن کے موضوعات اور خیالات کے دھارے کا رخ معلوم ہوتا ہے، اُن کے شاعرانہ غم اور کرب کی بنیاد کا پتا چلتا ہے جس کی تفسیر و تشریح ان کی شاعری ہے ۔ یہ غزل :
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
دلی اب کے ایسی اجڑی ایسا پھیلا سوگ
مذکورہ غزل کی دوسری کڑی معلوم ہوتی ہے ۔ ان کے علاوہ بہت سارے اشعار اس سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں اور وہ ان کو ڈراما کی طرح Episodes میں پیش کرتے ہیں ۔
گو کہ شخصی واردات کے اظہارکے ساتھ ساتھ اجتماعی اِضطراب کی عکاسی کرنے میں بھی ان کو ہنرمندانہ سلیقہ آتا ہے ۔مگر اس میں شور شرابا اور خون خرابا ان کے اعصاب پر حاوی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جذباتیت کی رو میں بہا دیتے ہیں بلکہ اس کو اپنی تخلیق کی آنچ سے پگھلا کر موم کرکے شائستگی کے سانچے میں ڈھالتے ہیں ۔ بقول شمیم حنفی:
 ان کی شاعری پیغام ، عقیدے ، نظریے اور حکمت سے عاری ہے مگر یہ مہذب انسان کی شاعری ہے۔
اے ہم سخن وقت کا تقاضا ہے اب یہی
میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی
اس کے سب زخم ہرے ہیں اور ذرا سے ٹکرائو سے درد کی شدتیں جنم لیتی ہیں :
ناصر ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اداس
وہی پرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ
ناصر کو بھی اپنے گمشدہ ماضی کی تلاش ہے :
کہاں کھو گیا مرا قافلہ کہاں رہ گئے مرے ہم سفر
’’یاد وہ کلید ہے جس سے ہر رات ناصر اپنے سُونے مکان کے زنگ آلود تالے کو کھولتا ہے۔‘‘
اگر یاد کی قوت ناصر کا ساتھ نہ دیتی، تو اس کا تن ہی نہیں من بھی کسی خستہ حال مشین کی طرح ہکلانے لگتا اور وہ شعر کہنے کی سکت ہی سے محروم ہوجاتا…
پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
دلِ ویران میں دوستوں کی یاد
جیسے جگنو ہوں داغ میں گل کے
وزیر آغااسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں :
’’برگ ِ نے ‘‘تو یادوں کا ایک ذخیرہ ہے جس میں طرح طرح کے واقعات ، حادثات ، ہجر ، ملال ، تنہائیاں ، اُداسیاں ، افسردگی ، سونی راتیں ، پت جھڑ ، گل ، گلشن ، دوست ، احباب سب ہی جمع ہیں اور سب آپس میں چہ میگوئیاں کرتے نظر آتے ہیں ۔
اپناآبائی مسکن انبالہ اُن کی یادوں کا مسکن ہے:
انبالہ ایک شہر تھا سنتے ہیں اب بھی ہے
میں ہوں اسی لٹے ہوئے قریے کی روشنی
اے ساکنانِ خطۂ لاہور دیکھنا
لایا ہوں اس خرابے میں لعل مدنی
لاہور کتنا ہی شہروں کا شہر نہ کہلائے مگر اپنے آبائی وطن سے انسان کو ایک فطری لگائو ہوتا ہے ۔ خارجی اور شعوری طورپر تو انسان دوسری جگہ بس جاتا ہے مگر داخلی اور لاشعوری طور پر وہ اپنے اسی گھر میں ہوتا ہے جہاں اس نے جنم لیا ہوتا ہے۔جہاں اس نے اپنا بچپن بِتایا ہوتا ہے۔اس لیے اس کے خیالات کا دھارا اور تصور کا بہاؤہمیشہ اپنی جائے پیدائش کی طرف ہوتا ہے ایسی صورت حال میںیہ فطری سی بات ہے کہ انسان نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اور وہ اس سے نجات پانے کے لیے اور ماضی میں مراجعت کرنے کے لیے تنہائی پسند کرتا ہے ۔ جدیدیت میں ’’تنہائی‘‘ کا رجحان ناصر کی شاعری ہی سے پروان چڑھا اور اپنی مستحکم بنیاد بنانے میں کامیاب ہوا۔ ناصر نے بھی خود کو تنہائی کے جوکھم سے گزارا اور فرد کی تنہائی کو مختلف امیجز کے ذریعے اُجا گر کیا ہے۔مثلاًدرختوں، اینٹوں، گلیوں اور بارشوں وغیرہ سے ۔ ایک انٹرویو میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انتظار حسین کوکہتے ہیں :
’’ شاعر جو ہے وہ ساری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے ۔انسان جو بھی ، جہاں بھی ہو ، تخلیقی ہوسکتا ہے، اسے تخلیقی ہونا چاہیے ، یہی اس کی معراج ہے ، لیکن اس معراج کو پانے کے لیے اسے تنہائی کے جوکھم سے گزرنا پڑے گا۔ ’’ برگ نے ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’ ہمارے زمانے کا شاعر کئی اعتبار سے اکیلاہے:
تنہائی کا دکھ گہرا تھا
میں جنگل جنگل روتا تھا
اس غزل میں مطلع کے ایک شعرکے بعد ہر شعر میں تنہائی کا ذکر کیا ہے ۔
’’ نشاط خواب، شہر غریب، نیا سفر، ان تین طویل نظموں کے علاوہ بار ش کی دعا،گجرے پھولوں کے اور ساتواں رنگ ‘‘مختصر نظمیں بھی ہیں۔ اس مجموعے میں وہ ایک ذمہ دار اور حساس فرد کی صورت میں سامنے آتے ہیں جس میں اُن کے دل میں مذہب اور اپنے وطن کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر جاتا ہے۔انبالہ اُن کے لیے اب خوابوں کا شہر بن گیااب اُن کی اولاد کا مسکن لاہور ہے ۔اب وہ کہہ اُٹھتے ہیں:
 ’’تو ہے میری زندگی اے میرے پیارے وطن‘‘
انہوں نے غالب کے اشعار کی تضمین میں عمدہ نعت لکھی ہے۔ واقعی ناصر کو یہاں داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے اس کے لیے بہت ہی موزوں و مناسب غزل کا انتخاب کیا ہے :
یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا
جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
زباں پہ بار خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میری زبان کے لیے
تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِبیکراں کے لیے


اردو ڈائجسٹ سے شاہ معین الدین انتخاب

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں