
بادشاہ رات سے فکر مند تھا کیونکہ رات سے ہی لوگ شاہی محل کے اُس جھروکے کے نیچے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جس سے بادشاہ لوگوں کو بہت صاف دیکھ سکتا تھا ۔ ننگے، بھوکے لوگوں کے چہروں پر نفرت تھی، وحشت تھی، بادشاہ پریشان تھا ۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور تمام صورت حال بتلائی، کچھ دیر کو وزیر با تدبیر بھی پریشان ہوا لیکن پھر اُس نے مسکرا کر کہا ۔
،،ھم ان کا دھیان بٹا دیتے ہیں بادشاہ سلامت، انہیں کسی اور طرف لگا دیتے ہیں،،۔
اُسی شام عظیم الشان کھیلوں کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس کھیل میں سب سے اھم کھیل میں رعایا نے بہت دلچسپی لی ۔ کھیل تھا بھوکے شیروں سے قیدیوں کی کشتی ۔ رعایا رات ہی سے میدان میں جمع ہونے لگی ۔ وہ اپنا ننگ، اپنی بھوک اور اپنی محرومیاں بھول چکے تھے ۔ وہ بے چینی سے کھیل کے اس حصے کے منتظر تھے جب بھوکے قیدیوں کو بھوکے شیروں سے لڑایا جانا تھا ۔ کھیل شروع ہوا ، قیدیوں اور شیروں کا آمنا سامنا ہوا ۔ صرف ایک قیدی ایک شیر پرقابو پا سکا لیکن وہ اتنا زخمی ہو گیا تھا کہ تھوڑی دیر بعد مر گیا ۔ باقی قیدیوں کے شیروں نے ٹکڑے اڑا دئیے ۔ اگلی صبح شاہی محل کے سامنے ایک بھی احتجاج کرنے والا نہیں تھا ۔ بادشاہ نے وزیر کو انعام دیا اور پوچھا کہ جب اگلی مرتبہ لوگ احتجاج کرنے کو جمع ہوں گے تو ھم کیا کریں گے؟ وزیر مسکرایا اور بولا ،، نہ یہاں بھوکے شیروں کی کمی ہے اور نہ ہی بیوقوف عوام کی ۔ جب تک شیر بھوکے اور عوام تماش بین ہیں، ایسا ہی ہوتا رھے گا۔
تحریر:اقبال حسن انتخاب: شاہ معین الدین

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں