چہرہ


کم سنی کی باہوں میں
جھولتا حسیں چہرہ
آج تک نگاہوں میں زیرِ آب رہتا ہے۔۔۔
جس کے ہاتھ ماضی کی گونجتی حویلی کے
قفل کھول دیتے ہیں!
جس کے ذکر کی برکھا
سوچ کی زمینوں پر ٹوٹ کر برستی ہے!
دل کے زرد کاغذ پر سرخ روشنائی سے
اُس گلاب چہرے کے خدوخال لکھتی ہوں
جیسے سرد راتوں میں اُونگتی ہوئی کوئل
گھر تلاش کرتی ہے
جیسے پر کٹی چڑیا آندھیوں کے موسم میں
در تلاش کرتی ہے۔۔۔

شاعرہ: معصومہ شیرازی      انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں