کس کو سناؤں حالِ غم ، کوئی غم آشنا نہیں


کس کو سناؤں حالِ غم ، کوئی غم آشنا نہیں
ایسا ملا ہے دردِ دل ، جس کی کوئی دوا نہیں

میری نمازِ عشق کو زاہد سمجھ سکے گا کیا
اُس نے درِ حبیب پر سجدہ کبھی کیا نہیں

کیسے جھکاؤں اپنا سر ، کیسے کروں ادا نماز
صحنِ حرم میں زاہدا ، یار کا نقشِ پا نہیں 

مجھ کو خدا سے آشنا ، کوئی بھلا کرے گا کیا
میں تو صنم پرست ہوں ، میرا کوئی خدا نہیں 

انتخاب: اسدمحمود

1 تبصرہ جات:

  1. Assalamualaikum
    Dear Mr. Asad I want to the poet name for this Ghazal کس کو سناؤں حالِ غم

    جواب دیںحذف کریں