کسی شخص نے مرے زخم پر کوئی اور زخم لگا دیا

کسی شخص نے مرے زخم پر کوئی اور زخم لگا دیا
ابھی جو چراغ جلا نہ تھا ، وہ چراغ اُس نے بجھا دیا

وہ فریب خوردہ حیات ہو کہ ہماری اپنی ہی ذات ہو
جسے سنگِ راہ سمجھ لیا ، اُسے راستے سے ہٹا دیا

تُو وہ آفتاب تھا، جس کی ضو رہی روشنی سے بھی تیز رُو
یہ ہزار رنگ نقاب میں، ترا چہرہ کس نے چھپا دیا

مری زندگی میں ہے وہ سفر کہ چٹان جیسی ہے رہگزر
میں اُسی کے پاؤں کی خاک ہوں، مجھے نقش جس نے بنا دیا

ہیں جو تیرے ساتھ بندھے ہوئے ، کہیں ٹوٹتے ہیں وہ سلسلے!۔
مجھے رات موت کی نیند سے تری آرزو نے جگا دیا

شاعر :شہزادؔاحمد        انتخاب: اسد محمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں