ہمیں توخاک پہ حکمِ سفر دیا اُس نے

ہمیں توخاک پہ حکمِ سفر دیا اُس نے
وہ اور ہوں گے جنہیں کوئی گھر دیا اُس نے

وہی کہ جس نے عطا کی گلاب کو خوشبو
مجھے بھی شوقِ اذیت سے بَھر دیا اُس نے

اُسے نہ ملنے سے خوش فہمیاں تو رہتی ہیں
میں کیا کروں گا جو انکار کر دیا اُس نے

دُعائے اَبر کا مقصد تو اور تھا کوئی
مرے چراغ کو پانی سےبَھر دیا اُس نے

میں ایک شاخِ مسلسل تھا اپنے خوابو ں  کی
ثمر کے بوجھ سے بیکار کر دیا اُس نے

مری نگاہ کوکوئی فریب بھی دیتا 
اگر یہ سچ ہے کہ حسنِ نظر دیا اُس نے

شاعر: عباس تابشؔ                 انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں