آشنا کوئی سرِ شہرِ ستمگر نہ ملا
اب کے آئے تو کسی ہاتھ میں پتھر نہ ملا
سارے دشمن مری گلیوں کی کمیں گاہ میں تھے
کوئی لشکر بھی مجھے شہر کے باہر نہ ملا
ہم بھی پتھر تھے مگر کیسا مقدر لائے
سب خدا ساز ملے کوئی صنم گر نہ ملا
نظمِ میخانہ کچھ ایسا ہی رہا ہے کہ ہمیں
کبھی ساقی کبھی مینا کبھی ساغر نہ ملا
ہم ہی محروم تھے ایسے کہ فقط تُو ہی نہیں
ہم جسے ڈھونڈنے نکلے وہی اکثر نہ ملا
دیکھ پندار اُن آشفتہ سروں کا کہ جنہیں
بختِ منصور ملا ، تختِ سکندر نہ ملا
اب جو تجدیدِ رفاقت ہے تو پھر ٹوٹ کے مل
دِل ہے آئینہ تو پھر ہاتھ جھجک کر نہ ملا
لاکھ بے مہر سہی دوست تو رکھتے ہو فرازؔ
ان کو دیکھو کہ جنہیں کوئی ستمگر نہ ملا
شاعر: احمد فرازؔ انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں