جلا رہا تھا جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا تھا
وہ چاہتا تو مرے ساتھ چل بھی سکتا تھا
وہ دِل کو بات کو دِل میں چھپا کے بیٹھا رہا
کہ مسئلے کا کوئی حل نکل بھی سکتا تھا
رکھا ہی کیا تھا مرے گھر میں جس کا دُکھ ہوتا
جلانے والے ترا ہاتھ جل بھی سکتا تھا
میں ساتھ ساتھ، ترا ساتھ بھی نبھاتا رہا
اگر میں چاہتا آگے نکل بھی سکتا تھا
یہ اور بات کہ وحشت میں کٹ گئی قیصرؔ
میں آس پاس کا منظر بدل بھی سکتا تھا
شاعر: زبیر قیصرؔ انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں