تیری آشفتہ بیانی سے گزر آئے ہیں
لوگ تکلیفِ معانی سے گزر آئے ہیں
جن کو از راہِ تفنن ہی تراشا تھا کبھی
اب وہ کردار کہانی سے نکل آئے ہیں
اب اسی شہر سے اُٹھیں گے جنازے اپنے
عرصہءِ نقل مکانی سے گزر آئے ہیں
ریت چبھنے لگی آنکھوں میں تو احساس ہوا
منزلِ اشک فشانی سے گزر آئے ہیں
وہ بھی اُلفت کو سمجھنے لگا اِک کارِ زیاں
ہم بھی اِک لمحہ ءِ فانی سے گزر آئے ہیں
یہ جو تھک ہار کے پتھرائے ہوئے بیٹھے ہیں
اپنے دریا کی روانی سے گزر آئے ہیں
اب فقط جلوہ نمائی کا ہنر دیکھیں گے
لطفِ پیٖغامِ زبانی سے گزر آئے ہیں
شاعر: شاہینؔ مفتی انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں