جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دِل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہارِ تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معنی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تُو نے جا کر تو جدائی میری قسمت کردی
اب تو دُشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تیری اُلفت نے محبت میری عادت کر دی
پُوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں