سو کے ایسے نگار اُٹھتا ہے
جیسے اَبرِ بہار اُٹھتا ہے
جو بھی اُٹھتا ہے اس کی محفل سے
خستہ و دِل فگار اُٹھتا ہے
دو گھڑی اور دِل کو لُبھاتا جا
کیوں خفا ہو کے یار اُٹھتا ہے
آج کی رات خیر سے گزرے
دردِ دل بار بار اُٹھتا ہے
ہوش میں ہو تو میکدے سے عدمؔ
کب کوئی بادہ خوار اُٹھتا ہے
شاعر: عبدالحمیدعدمؔ انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں