ہم بستی چھوڑے جاتے ہیں۔۔۔


ہم خوابوں کے بیوپاری تھے ، پر اس میں ہوا نقصان بڑا

کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی ، کچھ اب کے غضب کا کال پڑا

ہم راکھ لیے ہیں جھولی میں ، اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا


یہاں بُوند نہیں ہے ڈیوے میں ، وہ باج بیاج کی بات کرے

ہم بانجھ زمین کو تکتے ہیں ، وہ ڈھور اناج کی بات کرے

ہم کچھ دِن کی مہلت مانگیں ، وہ آج ہی آج کی بات کرے


جب دھرتی صحرا صحرا تھی ، ہم دریا دریا روئے تھے

جب ہاتھ کی رَیکھائیں چُپ تھیں اور سُر سنگیت میں سوئے تھے

تب ہم نے جیون کھیتی میں ، کچھ خواب انوکھے بوئے تھے


کچھ خواب تھے جلمستانوں کے ، کچھ بول تھے بس دِیوانوں کے

کچھ لفظ جنہیں معنی نہ ملے ، کچھ گیت شکستہ جانوں کے

کچھ نِیر وفا کی شمعوں کے ، کچھ پَر پاگل پروانوں کے


پھر اپنی گھائل آنکھوں سے ، خوش ہو کے لہو چھڑکایا تھا

ماٹی میں ماس کی کھاد بھری اور نَس نَس کو زخمایا تھا

اور بُھول گئے پچھلی رُت میں ، کیا کھویا تھا کیا پایا تھا


ہر بار گگن نے وہم دیا ، اب کے برکھا جب آئے گی

ہر بیج سے کونپل پُھوٹے گی اور ہر کونپل پَھل لائے گی

سر پہ چھایا چھتری ہوگی اور دھوپ گھٹا بن جائے گی


جب فصل کٹی تو کیا دیکھا ، کچھ دَرد کے ٹوٹے گجرے تھے

کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پر ، کچھ خاکستر سے کجرے تھے

اوردُور اُفق پہ ساگر میں ، کچھ ڈوبتے ڈولتے بجرے تھے


اب پاؤں کھڑاؤں دھول بھری اور جسم پہ جوگ کا چولہ ہے 

سب سنگی ساتھی بھید بھرے ، کوئی ماشہ ہے کوئی تولہ ہے

اُس تاک میں وہ ، اِس گھات میں یہ ، ہر اور ٹھگوں کا ٹولہ ہے


اب گھاٹ نہ گھر ، دِیوار نہ دَر ، اب پاس رہا ہے کیا بابا

بس تن کی گٹھڑی باقی ہے ، جا یہ بھی تُو لے جا بابا

ہم بستی چھوڑے جاتے ہیں ، تُو اپنا قرض چُکا بابا


شاعر:احمد فرازؔ    انتخاب: اسدمحمود



0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں