عشق کی راہ میں مر جانے دے


عشق کی راہ میں مر جانے دے
کام آسان ہے کر جانے دے

دِل میں اِک بار مجھے جانِ سخن!
بات بن کر ہی اُتر جانے دے

کیسے سُن پاؤں گا آواز تری
دِل کی دھڑکن تو ٹھہر جانے دے

ایسی عجلت بھی ہے کیا اے سورج!
آج کا دِن تو گزر جانے دے

ابرِ پُر نم ! تجھے جلدی کیا ہے؟
میری آنکھیں بھی تو بھر جانے دے

اے ہوا! اپنی نہیں فکر مجھے
ان پرندوں کو تو گھر جانے دے

مجھے معلوم ہے تُو لمحوں کو 
روک سکتا ہے مگر جانے دے

ہاتھ مت روک ہوا کا جمشیدؔ
زلف چہرے پہ بکھر جانے دے

شاعر: جمشیدؔ چشتی         انتخاب: اسدمحمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں