بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں

غزل

بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں
ورنہ کس واسطے بیکار میں گم ہو جائیں

کیا کریں عرضِ تمنا کہ تجھے دیکھتے ہی
لفظ پیرایہءِ اظہار میں گم ہو جائیں

یہ نہ ہوتم بھی بھیڑ میں کھو جاؤ کہیں
یہ نہ ہوہم کسی بازار میں گم ہو جائیں

کس طرح تجھ سے کہیں کتنا بھلا لگتا ہے
تجھ کو دیکھیں ترے دیدار میں گم جائیں

ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں

پیچ اتنے بھی نہ دو کرمکِ ریشم کی طرح
دیکھنا سر ہی نہ دستار میں گم ہو جائیں

ایسا آشوبِ زمانہ ہے کہ ڈر لگتاہے
دِل کے مضمون ہی نہ اشعار میں گم ہو جائیں

شہر یاروں کے بُلاوے بہت آتے ہیں فرازؔ
یہ نہ ہو آپ بھی دربار میں گم ہو جائیں

شاعر: احمد فرازؔ

انتخاب :اسد محمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں