جنوب اپنا نہ دسترس میں شمال اپنا

غزل

جنوب اپنا نہ دسترس میں شمال اپنا
بھٹک گیا ہے کہاں نہ جانے غزال اپنا

زمامِ اسپ ِ خیال ہاتھوں سے چھوٹتی ہے
مقامِ کسبِ کمال پر ہے زوال اپنا

رُخِ زلیخا کے آئینے پر اٹک گئی ہے
نگاہِ یوسف کہ ڈھونڈتی ہے جمال اپنا

کسی پرندے کے پَر کا سایہ نہ سر پہ آیا
تو کیا کہیں کہ یہ سال کیسا ہے سال اپنا

یہ موسموں کی جو بات کرتے ہو تم تو گویا
تمہارا آسان ہو گیا ہے محال اپنا

اُلجھ گیاہوں میں اپنے آپے میں آپ ایسا
کہ ہو گیا ہوں جواب اپنا،سوال اپنا

کہاں چلو گے،کہاں پہ آ کے رُکے ہو عابدؔ
یہ کیسی منظق ہے کچھ تو کرتے خیال اپنا

شاعر: عابدؔ جعفری
انتخاب: اسد محمود

0 تبصرہ جات:

ایک تبصرہ شائع کریں