غزل
ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں شکستِ اَنا کے بعد
ہر باوفا بھی چھوڑا ہے اس بے وفا کے بعد
طوفاں میں چھوڑ دے کہ یہ ساحل پہ لے چلے
اب ناخدا خدا بھی ہے اپنا خدا کے بعد
سُنتا نہیں یہاں کوئی یا بولتا نہیں
ہیں چار سو خموشیاں مری اِک صدا کے بعد
جلتے دئیے بجھانا اسی کا ہی کام ہے
محفل میں کوئی آیا نہیں ہے ہوا کے بعد
اِک بار پھر خدا سے ہی مانگیں گے ہم تمہیں
عابدؔ اُٹھیں گے حشر میں جس دِن قضاء کے بعد
شاعر: عابدؔ جعفری
انتخاب: اسد محمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں