غزل
تیری گلی سے جب کوئی رشتہ نہیں رہا
منزل نہیں رہی کوئی جادہ نہیں رہا
بیٹھیں کہاں کہ سایہءِ دیوار بھی نہیں
جائیں کہاں کہ پاؤں میں رستہ نہیں رہا
اب محوِ انتظار وہ آنکھیں نہیں رہیں
بامِ نظر پہ کوئی دریچہ نہیں رہا
تُو آسماں سہی تری گردش بجا مگر
موسم تیری وفا کا بھی تازا نہیں رہا
دشتِ جنوں نواز وہی، قیس بھی وہی
محمل نہیں رہی، کہیں ناقہ نہیں رہا
پہلی سی وہ محبتیں کب تھیں اُسے
جیسا ملا تھا وہ کبھی ، ایسا نہیں رہا
عابدؔ یہ کیا فُسوں ہے کہ حدِ نگاہ تک
جگنو نہیں رہا، کوئی تارا نہیں رہا
شاعر: عابدؔ جعفری
انتخاب: اسد محمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں