می رقصم
تمہاری خوشبوؤں کے دائروں میں
رقص کرنا بھی
عجب اِک تجربہ ہے
کہ میرے پاؤں میں بجتے ہوئے
اِن گھنگرؤں کی مستیاں
تھکتی نہیں ہیں
شاعرہ
:
نوشیؔ گیلانی
انتخاب
:
اسد
محمود
انتخاب:
Unknown
|| زمرہ جات:
نظمیات
جدید تر اشاعت
قدیم تر اشاعت
0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
شیئر کریں
ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کریں
ٹیگز
غزلیات
مزاحیات
نثریات
نظمیات
مقبول ترین تحاریر
ناصر کاظمی
ناصرکاظمی (1974-1925ء)جدید یت کے اہم شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ناصر کاظمی لطیف محسوسات کے شاعر ہیں اوریہ حسیات ان کے اندر ہی سے جنم لی...
محبت کیا ہے؟
ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘...
مرقدِ عشق
ہمیں تو حکمِ مجاوری ہے۔۔۔ مزارِدل میں ہے کون مدفن؟ یہ کس عروسہ کا مقبرہ ہے؟ نہ کوئی کَتبہ ، نہ کوئی تختی نہ سنگِ مرمر کی سِل پہ ...
دیدِ جمال حق ہوئی ، حسنِ نگار دیکھ کر
دیدِ جمال حق ہوئی ، حسنِ نگار دیکھ کر بن گئے بُت پرست ہم ، صورتِ یار دیکھ کر کب تھا نصیب میں سکوں ، پہلے ہی حال تھا زبوں بڑھ گئی...
حسن مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے
حسن مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے اس سے میرا مہءِ خورشید جمال اچھا ہے بوسہ دیتے نہیں اور دِل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ جی میں کہتے ہی...
اُردو لکھیئے
Home
کچھ ہمارے متعلق
آپ بھی لکھیے
پرائیویسی پالیس
رابطہ
© 2013 Twitter
: Designed by
Templateism
0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں