مجھے عدو کے قبیلے کا فرد کیا جانے
مرا رقیب مرے دِل کا درد کیا جانے
مجھے عبث ہے توقع وفا کی ظالم سے
خمارِ ابرِ نمو ، برگِ زرد کیا جانے
بگولے ششدر و حیران ہو کے پھرتے ہیں
جنوں کے کرب کو صحرا کی گرد کیا جانے
بس اس کو دوستو! اَمرت سمجھ کے پی جاؤ
سرورِ بادہ لہو سرد سرد کیا جانے
ہزار بار گنوائی ہے آبرو ناطقؔ
فریبِ زن کو غریب ایک مرد کیا جانے
شاعر: ناطقؔ جعفری انتخاب: اسد محمود

0 تبصرہ جات:
ایک تبصرہ شائع کریں